10 نومبر 2013 - 20:30

علامہ سید ساجد علی نقوی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جلوس و مجالس عزا میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرینگے ، علماء کو اتحاد و روداری کا درس عام کرنے کی تاکید کی ۔

ابنا: علامہ سید ساجد علی نقوی نے پاکستان کے شیعہ علمائے کرام کے وفود سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے اتحاد و روداری کا درس عام کرنے کی درخواست کی  ۔انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ بعض جگہوں پر روایتی جلوس و مجالس ہائے عزاء بپاء کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں لھذا حکومت محرم الحرام میں سیکورٹی انتظامات کو فول پروف بنائے، کیوں کہ ہم عزاداری سید الشہداء کے سلسلے میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرینگے کہا: حکومت آئینی ، مذہبی و شہری آزادیوں کو سلب کرنے سے گریز کرے نیز علمائے کرام اسوئہ حسینی پر عمل کرتے ہوئے اتحاد و روداری کا درس دیں ۔علامہ سید ساجد علی نقوی نے یہ کہتے ہوئے کہ ملک کی امن وامان کی مجموعی صورتحال کشیدہ ہے جبکہ محرم الحرام میں حکومت کی جانب سے سیکورٹی کے وہ انتظامات نہیں کئے گئے جن کی ضرورت تھی اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات اٹھائے اور زبانی جمع خرچ سے گریز کیا جائے کہا : ملک کے بعض حصوں میں روایتی جلوس و مجالس ہائے عزا بپا کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور مختلف بہانے تراشے جانے پر ہم حکومت پر یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ عزاداری سید الشہداء صدیوں سے جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گی اور اس سلسلے میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔علامہ سید ساجد علی نقوی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک میں تمام مذاہب و مسالک کو ان کی مذہبی عبادات ادا کر نے کا پورا حق آئین پاکستان نے دیا ہے کہا: امام عالی مقام حضرت امام حسین (ع) کے سیرت پر عمل کرتے ہوئے معاشرے میں وحدت کوفروغ دیا جائے اور مجالس میں علمائے کرام اتحاد و روداری اور علم کو موضوع سخن بنائیں کیونکہ تعلیم، اتحاد اور روداری سے ہی ملک و قوم ترقی کرسکتے ہیں۔

.......

/169